دُعا کیسے قبول ہو
وسیم بیگ نے Monday، 7 May 2012 کو شائع کیا.

ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔ میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔ اس نے ٹال دیا ۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ آخر کار ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔ آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا۔’’ یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے ۔ وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا
آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں

’’ اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا ۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا ‘‘ اچھا بیٹے ، اطمینان رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا۔’’ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ پورا کر کے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی۔

لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی۔جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لئے تھی۔

یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہےجو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہےجس میں بندہ اپنے پوری ہستی کو انڈہل دیتا ہے ۔ جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں ۔جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کرلیتا ہے کہ ‘‘ بیٹا’’ اور ‘‘ باپ’’ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔

یہ وہ لمحہ ہےجب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لےلیتا ہے


نا جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم
وسیم بیگ نے Sunday، 22 April 2012 کو شائع کیا.

نا جانے ہم ہر روز کیوں ایسے امتحانات سے گزر رہے ہیں ابھی ایک زخم بھرا نہیں ہوتا کے نیا زخم مل جاتا ہے ایسے ہی پہلے گیاری سیکٹر والا سانحہ اور پھر جہاز کے گرنے کا المناک خوفناک اور درد ناک واقعہ جس میں 127 معصوم جانیں چلیں گئی اوراس حادثے کے بعد حکومت [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


اپریل فول کی دردناک حقیقت
وسیم بیگ نے Sunday، 1 April 2012 کو شائع کیا.

معاشرتی برائیاں میرے محدود علم کے مطابق : اپریل فول April fool کے بارے مختلف روایات مشہور ہیں جن میں سے دو درج ذیل ہیں اپریل لاطینی زبان کے لفظ اپریلس Aprilis یا اپرائر Aprire سے ماخوذ ہے ، جس کا مطلب ہے پھولوں کا کھلنا ، کونپلیں پھوٹنا ، قدیم رومی قوم موسم بہار [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


آخر یہ بے بسی کب تک ؟
وسیم بیگ نے Monday، 26 March 2012 کو شائع کیا.

اکثر کچھ خبریں پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اپنے پاکستانی ہونے سے نفرت ہونے لگتی ہے کے ہم کتنے بے بس اور ہمارے حکمران کتنے بے حس ہیں آج ایک ایسی ہی بے بسی کی خبر نظر سے گزاری آج سے بارہ سال سے روز جینے اور روز مرنے والی، تیزاب سے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ویلنٹائن ڈے نامبارک ہو
وسیم بیگ نے Sunday، 12 February 2012 کو شائع کیا.

ویلنٹائن ڈے نامبارک ہو جوانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ جس کا احساس ہمیں بڑھاپے کی عُمر میں جا کر ہوتا ہے مگر افسوس کہ ہمارے بہت سےنادان مسلمان بہن بھائی اس جوانی کوگُل چھڑےاُڑانے، موج مستی اور دیگر خُرافات میں صرف کرتے ہیں ایسی بے شمار خُرافات ہیں جو اس نعمت کو [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


اپنی عزت اپنے ہاتھ
وسیم بیگ نے Sunday، 5 February 2012 کو شائع کیا.
پی آئی اے میں جنات کا سایہ ہے
وسیم بیگ نے Tuesday، 31 January 2012 کو شائع کیا.
مشکل سوالات کے سیدھے سادے جوابات
وسیم بیگ نے Sunday، 22 January 2012 کو شائع کیا.
کیا ہمارا میڈیا آزاد ہے نہیں میں نہیں مانتا
وسیم بیگ نے Tuesday، 3 January 2012 کو شائع کیا.
Somos no son terroristas somos nación más pacífica del mundo
وسیم بیگ نے Wednesday، 7 December 2011 کو شائع کیا.
Site Meter