پاکستانی معاشرہ

یہ ذہنی مریض پاکستانی معاشرے کی اصل تصویر ہے جو کسی حال میں خوش نہیں کسی کو کسی حال میں جینے نہیں دیتے بس اعترض پر اعترض
کیا کہوں کہاں سے بات شروع کروں کچھ سمجھ نہیں آتی بس آج دل بھر آیا لکھنا نہیں چاہتا لیکن میرے بہت سے قابل احترام اور پڑھے لکھے دوستوں کے فضول قسم کے تبصروں نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا جن نے آج کل سنی سنائی باتوں پر اٹھ کر تنقید کا بازار گرم کیا ہوا ہے تو میں ایسے دوستوں سے مخاطب ہو کر کچھ کہنا چاہتا ہوں کے ڈاکٹر محمد طاہر القادری پر تنقید کرنے والو میرے ہم وطنو آپ کو انقلاب کی نہیں جوتی کی ضرورت ہے وہ بھی بگھو بگھو کر دو نورے اور زرداری کو ووٹ اور بن جاؤ مظلوم معاشرے کا حصہ کیوں روتے ہو گیس کو کیوں روتے کو سی این جی کو کیوں روتے کو مہنگائی کو ایک طرف تم ایسے نظام سے تنگ ہو جس میں تمہاری جان مال عزت محفوظ نہیں کب کسی وڈیرے کی گولی کا نشانہ بن جاؤ تمہیں پتا نہیں لیکن اگر کوئی اس نظام کو بدلنے کی بات کرتا ہے تو تم صرف یو ٹیوب کی دو چار فضول قسم کی جھوٹی ویڈیو دیکھ کر اسی کو ہی بے جا تنقید کا نشانہ بناتے ہو خدا رہ ہوش کے ناخن لو سوچ سے کام لو ایک مسلمان ہونے کے ناتے ایک حلف پر یقین کرتے ہوئے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تو کام از کام چپ رہو خدا کے لیے انتشار مت پھیلاؤ اور اگر تم کچھ کر سکتے ہو تو اپنی سوچ سے کام لو اور 14 جنوری پاکستانی معاشرے کی بیداری کے لیے قلم اٹهاو اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے هوئے اس جدوجہد کا حصہ بنو.اپنی آواز اٹھاؤ! یاد رکهو ! قوموں پہ زوال برے لوگوں کے بهونکنے سے نہیں بلکہ اچهے لوگوں کے خاموش رہنے سے آتا هے.ایسا موقعہ روز روز نہیں آتا اپنے حصے کا دیا جلاؤ آخر کب تک چیونٹیوں کے طرح مرتے رہو گے پاکستانیوں روز روز کے مرنے سے ایک دفع مرنا بہتر ہے اٹھاؤ ظلم کے خلاف آواز اور بدل ڈالو نظام

تبدیلی بہت پیچھے رہ گئی اب تو 14 جنوری کو انقلاب آئے گا انشا الله ۔۔۔

735056_508436415854269_918340140_n

اور ہاں کچھ حاض دوستوں کے لیے کےبات تمیز سے اور اعترض دلیل سے کرو کیوں کے زبان تو حیوانوں میں بھی ہوتی ہے مگر وہ علم اور سوچ سے محروم ہوتے ہیں