میری محدود سوچ کے مطابق
آج کل سارے پاکستانی ٹی وی چینل اور ان پر ہر ایک گھنٹہ بعد محفل سجانے والے زہر لگتے ہیں اس لیے نا چیز بلڈ پریشر بھڑانے کی بجائے آن لائن ایف ایم سننے میں بہتری سمجھتا ہے ایف ایم سننے کے بہت سے فائدے ہیں ایک تو بندا بار بار یہ بولنے سے بچ جاتا ہے کے ، مارو آدے منہ تے کوئی شے ، اور دوسرا فائدہ جو میری نظر سے گزرا وہ یہ کہ وہ لڑکیاں جو بیچاری گھروں میں بیٹھی رہتی تھیں اور ماں باپ کے ڈر سے کسی غیر مرد سے بات نہیں کرتی تھیں‘ اب رات کو اطمینان سے کسی’’جنید بھائی‘‘ سے آن ایئر بات بھی کرتی ہیں ‘ آواز کی تعریف بھی کرتی ہیں اور پسند کا گانا بھی سن لیتی ہیں۔’’جنید بھائی ‘‘ بھی آواز کا زیرو بم مزید خمارآلود بناتے ہوئے پندرہ سو روپے میں رات دو گھنٹے تک آہیں بھرتے ہیں‘ بے وزن شعر گنگناتے ہیں اوریہ ثابت کرنے میں پوری طرح کامیاب رہتے ہیں کہ وہ ایک رومانٹک شخصیت کے مالک ہیں اور ساغر صدیقی سے ناصر کاظمی تک ان کے نہایت قریبی مراسم رہے ہیں۔رات کے میزبانوں کو وحید مراد اور دن کے میزبانوں کو شوخ و چنچل شاہ رخ بننے کا جنون ہوتاہے۔ دن کے وقت یہ مائیک منہ کے اندر ڈال کر اتنی خوش خوش اور تیز بات کرتے ہیں کہ کوئی مائی کا لال اندازہ نہیں لگا سکتا کہ بیس منٹ پہلے جیدی ڈالے کے پیچھے لٹک کر سٹوڈیو پہنچا ہے۔ کئی میزبان لڑکیوں کی تو بات بات پہ اتنی ہنسی چھوٹتی ہے کہ ریڈیو سننے والا دانت پیس کر اپنی بیوی کو کوسنے لگتاہے۔اِن میں زیادہ تر وہ ہوتی ہیں جن کی شکل ان کی آواز کے بالکل مخالف ہوتی ہے۔ گھر میں شوہر ان سے ڈرتے جھجکتے تھوڑی سی بھی پیار کی بات کرے تو پنجے جھاڑ کے پیچھے پڑ جاتی ہیں لیکن آن ایئر اتنی محبت سے کالز کا جواب دیتی ہیں کہ ’’ بی سی این ‘‘ بھائی کی ایک دفعہ بھی کال مل جائے تو سارا دن اپنے پان کے کھوکھے پر بیٹھے حسین خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں
سب مایا ہے ،،،،