انسانیت کی عظیم مثال، سپین میں غیرقانونی پاکستانی کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ، نئی زندگی مل گئی

جسے اللہ رکھے چکھے ،ایساہی کچھ ہوا سپین میں مقیم گجرات کے گائوں ’’سوکڑکلاں ‘‘سے تعلق رکھنے والے 40سالہ ساجد حسین کے ساتھ۔ساجد حسین 4بچوں کا باپ ہے اپنی آنکھوں میں چوںکے بہتر مستقبل کے خواب سجائے 2006ء میں پاکستان سے یورپ کی طرف محو سفر ہوا ۔ایک سال مصر میں رہا وہاں سے 2007ء میں یونان چلا آیا ۔یونان میں چار سال تک مزدوری کی ۔2011ء میں ساجد سپین آگیا ۔سپین میں معاشی بد حالی کی وجہ سے بیروز گاری کا دور دورہ دیکھا تو محنت کرنے کے عزم کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور رات کو ڈسکو کلب کے سامنے پھول بیچنے شروع کر دیئے ۔ایک رات سڑک پر ہی دل کادورہ پڑا راہگیر ہسپتال لے گئے جہاں چیک اپ کے بعد ادویات دے کر فارغ کر دیا گیا ۔ڈیڑھ ماہ بعد دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی توبڑے ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ،جہاں ساجد حسین کی انجییو گرافی اور اس کا مکمل چیک اپ ہوا تو پتا چلا کہ اس کا دل ختم ہو گیا ہے ’’ہارٹ ٹرانسپرنسی ‘‘ کرنا پڑے گی ورنہ چند دن تک ساجد حسین ختم ہو جائے گا ۔ہسپتال کے اخراجات ،ادویات اور دل کا تبدیل کیا جانا اوربعد میں مکمل آرام کے لئے ہسپتال میں ہی رہنا اس لئے کہ دل تبدیل کرانے والوں کو ساری زندگی ادویات کھانا اور ہر ماہ ہسپتال کا وزٹ لازمی ہوتا ہے، ان تمام معاملات کے لئے تقریباً دو لاکھ یورو درکار تھے جو پاکستانی تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ روپے بنتے ہیں ،ساتھ ایک دل بھی چاہئے تھا جو ساجد حسین کے بلڈ گروپ کا ہوتا ،یہ سب کچھ ہو گیا اور ایک روپیہ بھی نہیں لگا ، کیسے ممکن ہے ؟ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ساجد حسین سپین میں غیر قانونی مقیم تھا اسکے پاس کوئی لیگل سٹیٹس بھی نہیںتھا کہ جس کی وجہ سے حکومت اس کا علاج کروا دیتی ۔ یہ وہ پیچیدہ بات تھی جو ہمیں ساجد حسین تک لے گئی اور ہم نے جیو نیوز اور روزنامہ جنگ کے لئے ساجد حسین سے ایک انٹرویو میں پوچھا کہ ایسا کیسے ممکن ہوا تھا ؟جسکے جواب میں ساجد حسین نے بتایا کہ مجھے پہلے ہسپتال ،دلمار ، لے جایا گیا جہاں بیماری کی سمجھ کسی کو نہ آسکی ، پھر دوسری بار جب تکلیف ہوئی تو مجھے ’’ہسپتال کلینک‘‘ لے جایا گیا جہاں میری انجیو گرافی کی گئی اور مجھے وہیں داخل کر لیا گیا ۔دو ماہ میں وہاں ادویات کھاتا رہا اور صحت مند ہوتا گیا ۔ لیکن ایک دن اچانک ہسپتال میں ہی مجھے دل کی تکلیف ہوئی اور میں بے ہوش ہو گیا ۔مجھے پانچ ماہ بعد ہوش آیا تو دوستوں نے بتایا کہ میرا دل تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ساجد حسین نے بتایا کہ سپین میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے لہذا ڈاکٹرز نے میرے قریبی دوستوں سے ہی اجازت لے کر میرا آپریشن کیا ۔بے ہوشی کی حالت میں میرے دوست راجہ لیاقت علی ،راجہ واصف اور ندیم اقبال میرے ڈاکٹرز سے رابطے میں رہے اور بے ہوشی کے پانچ ماہ کے عرصہ میں جو کچھ ہوا یہ میرے دوستوں کی زبانی مجھے پتا چلا ۔ساجد کا کہنا تھا کہ میرے دوستوں نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹرز نے مجھے مصنوعی طریقہ سے زندہ رکھا اور کہا کہ اگر چھ ماہ میں تبدیل کیا جانے والا دل مہیا ہو گیا تو ٹھیک ورنہ اس سے زیادہ ہم ساجد حسین کو زندہ نہیں رکھ سکیں گے ۔سپین کے تمام ہسپتالوں میں اعلان کروا دیا گیا کہ فلاں بلڈ گروپ کا دل اگر مہیا ہو تو بارسلونا میں ہسپتال کلینک سے رابطہ کیا جائے ۔اللہ کو میری زندگی منظور تھی پانچویں مہینے میں سپین کے دارلحکومت میڈرڈ سے میرے متعلقہ دل ملنے کی اطلاع آگئی ۔اب میڈرڈ سے دل کو بارسلونا پہنچنے میں آٹھ گھنٹے کا وقت درکار تھا ۔لہذا دل ملتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے بارسلونا پہنچایا گیا ۔دل کی تبدیلی کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ میں مسلمان تھا لہذا میرے دوستوں سے پوچھا گیا کہ اگر دل کسی غیر مسلم کا ہوا تو ساجد حسین کو کوئی اسلامی بندش یا مذہبی رکاوٹ تو نہ ہو گی ۔دوستوں نے کہا کہ ساجد کی زندگی بچانا مقصودہے اس لئے یہ کوئی معاملہ نہیں ۔میرا دل سپین کی سب سے قابل ڈاکٹر ’’مونت سرات کاردونا ‘‘ نے تبدیل کیا اور مجھے جب ہوش آیا تو سب سے پہلے مجھے ڈاکٹر مونت سرات کاردونا نے ہی مبارک باد دی ۔ہسپتال انتظامیہ نے میری بیماری کو دیکھتے ہوئے مجھے حکومت سپین سے قانونی طور پر سپین کا شہری ہونے کے کاغذات لے کر دیئے ۔اس کے بعد چونکہ مجھے اب تمام عمر ادویات کھانی ہیں اور ساتھ ساتھ ہسپتال میں ہر ماہ ڈاکٹرز کو چیک اپ کرانا ہے اس لئے میں کہیں اپنے بچوں سے دوری کی وجہ سے پریشان نہ ہو جائوں مجھے میری بیوی اور بچوں کو سپین لانے کے لئے ہسپتال انتظامیہ نے ان کے کاغذات بھی بنوا دیئے ہیں ۔ساجد کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی کے ہیلتھ ورکر طاہر رفیع نے ہسپتال انتطامیہ کے ساتھ بہت تعاون کیا اور میرے گھر والوں تک میرا اور میرے ڈاکٹرز کا رابطہ کرایا جنہوں نے میری فیملی کے متعلق چھان بین کی اس کے بعد ان کو سپین لانے کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ساجد نے بتایا کہ میرے دوست مجھے چلتا پھرتا دیکھ کر سوال کرتے ہیں کہ تمہارا دل تبدیل ہوا ہے تو کیا اس سے تمہاری سوچوں میں بھی کوئی فرق آیا ہے یعنی ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ نیا دل ایک غیر مسلم کا ہے اور میں مسلمان ہوں ۔ میں نے اپنے دوستوں کو جواب دیا کہ پہلے بھی میرے دل میں اللہ کا گھر تھا اور اب بھی وہی مکین ہے ۔میں نے اپنے امام مسجد سے اس مسئلے کے بارے میں بات کی تھی انہوں نے کہا کہ اسلام میںایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور ویسے بھی میں پانچ وقت کا نمازی ہوں اب میرے منہ اور دل سے اللہ اللہ کی ہی آواز آتی ہے ۔ ساجد حسین نے بتایا کہ اب مجھے پاکستان جانے کی اجازت نہیں ہوگی اگر انتہائی ضرورت پڑے گی تو ڈاکٹرز مجھے پندرہ دن کے لئے پاکستان بھیج سکتے ہیں ۔کیونکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مجھ پر بہت زیادہ خرچہ اور محنت ہوئی ہے لہذا وہ مجھے اب زیادہ سے زیادہ مدت کے لئے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جنگ اور جیو کی جانب سے کئے گئے اس سوال کہ آپ سپانش ڈاکٹرز اور ہسپتال کی انتظامیہ کو کچھ کہنا چاہتے ہیں کے جواب میں ساجد حسین نے کہا کہ میرے والدین ، میری بیوی اور بچے ہر سانس کے ساتھ ان لوگوں کے لئے دعا گور ہیں گے۔ کیونکہ میں اگر پاکستان میں ہوتا تو ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اڑھائی کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم اکٹھی کر سکتا ۔جو سلوک ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز نے میرے ساتھ کیا وہ کوئی رشتہ دار بھی نہیں کرسکتا ۔ایک مسلمان کو دو سال تک زیر علاج رکھنا اس کی غلاظت صاف کرنا ،اسے صاف ستھرے کپڑے پہنانا اور اس کی نئی زندگی کے لئے تگ و دو کرنا یہ سب کچھ کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ ساجد حسین نے کہا کہ ڈاکٹرز روزانہ مجھے گلے ملتے ہیں اور سپانش زبان میں کہتے ہیں ( Muy Alegro )جس کا اردو میں مطلب ہے کہ ہم بہت خوش ہیں (تمہیں زندہ دیکھ کر ) ۔ساجد حسین نے جنگ اور جیو نیوز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ شکریہ اس لئے ادا کر رہا ہوں کیونکہ میرے جذبات کو الفاظ کا رنگ دے کر پوری دنیا کو یہ پیغام پڑھنے کے لئے ملے گا کہ سب سے پہلے انسانیت ہے اور انسانیت کا احترام ہی تمام مذاہب کا درس ہے ۔ ساجد حسین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو جگنووں کی طرح ٹمٹا رہے تھے اس کا کہنا تھا کہ سپانش گورنمنٹ کے نمائندوں اور ڈاکٹرز نے جس طرح ایک غیر قانونی تارکین وطن مسلمان پر دو کروڑ روپے کا خرچہ کیا دن رات اس کی زندگی بچانے کے لئے کوشش کی،دل تبدیل کرنے کے لئے اس کا انتظام کیا ،مجھے سپین میں رہنے کا لیگل سٹیٹس دیا اور میری پریشانی کو ختم کرنے کے لئے میرے بیوی بچوں کو سپین لانے کا انتظام کیا ۔اسے ہی حقوق العباد کہتے ہیں جو ہمیں بھی پورا کرنا چاہئیں کیونکہ یہ ہم سب پر فرض ہے ۔

پیشکش۔ پاک نیوز