طاہر القادری سے بہت معذرت کے ساتھ
قادری صاحب ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، قادری صاحب نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں، قادری صاحب کی خواہش ہے کہ پاکستان میں ماں، بہن، بیٹی کی عزت محفوظ ہو جائے، قادری صاحب چاہتے ہيں کہ یہاں دس سال کے معصوم بچوں کے بازو کٹنے بند ہو جائيں، قادری صاحب چاہتے ہیں کہ یہاں ایم پی اے تھانے پر حملہ کرے تو قادری صاحب اس پر قانون لاگو کروانا چاہتے ہیں، قادری صاحب صبح و شام پاکستان کی بیٹیوں بہنوں کی لٹتی ہوئي عزتیں بچانے کے لئیے اس نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
لیکن
قادری صاحب سے معذرت ہے کہ
ڈاکٹر صاحب یہ سب آپ چاہتے ہیں لیکن یہاں نوجوان، قوم کب چاہتی ہے کہ ان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہو جائيں۔ ایک اسلامی ملک میں بہنوں کی عزتیں تار تار ہوتی ہیں لیکن ہم بیٹھ کر مسواک کی لمبائي پر بحث کرتے ہیں، کیونکہ مسواک کرنا سنت ہے لیکن شائد بہن بیٹی کی عزت بچانا سنت نہيں ۔۔۔۔۔
اسلامی ملک میں پچاس فیصد سے زائد لوگ رات کو بھوکے سوتے ہیں، لیکن ہميں اس سے کیا ہم تو سنت کے پیروکار ہیں، ہم تبلیغ کے پیروکار ہیں، ہم عاشق رسول ہیں، ہمیں عشق رسول میں رونا تو آتا ہے لیکن رسول اللہ کی امت کی بہنوں کی عزت لوٹے یا بوڑھے بھوکے سو جائيں، باپ کے سامنے اس کی بیٹی کو اغواء کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بنا دیا جائے، ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔
قادری صاحب آپ سے معذرت ہے
یہ قوم، نوجوان، یہ مذھبی تنظیمیں، یہ سنتوں کے پیکر، یہ تبلیغ دین کے ٹھیکے دار پچھلے ساٹھ سال سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتی دیکھ رہے ہیں، پاکستانیوں کو بھوکا مرتے دیکھ رہے ہیں، یہ پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھ رہے ہیں، یہ ظالموں کو ظلم کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ قاتلوں کو قتل کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ ہوس کے پجاریوں کو قوم کی بیٹیوں کو ان کے بھائيوں کے سامنے عزت لوٹتا دیکھ رہے ہیں اور یہ دیکھتے رہیں گے۔
یہ اس نظام کے دیوانے ہیں، یہ نظام تبدیل نہیں کر سکتے۔۔۔۔
یہ قوم آپ کا ساتھ نہیں دے گی
اور
آئيندہ کے لیئۓ بھی پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھتی رہے گي۔
عزتیں تار تار ہوتیں رہیں گی، یہ مسواک کرتے رہیں گے یا شلوار پائنچے پر بحث کرتے رہيں گۓ۔
ان کی سنتوں اور تبلیغ کے مطابق ظالم کے خلاف خاموش رہنا سنت ہے۔۔
قادری صاحب؛ وی آر ویری سوری۔۔۔۔۔ اس نظام کو بدلنا نہ تو سنت ہے، ہماری سنتوں میں ظالم کے خلاف آواز اٹھانا شامل نہیں۔