طالبان اگر انسان ہوتےتو
اتنےسارے چیک پوسٹوں سےگزرتے ہوئےیقینًا نظرآجاتے, وہ بھی منوں گولہ بارودکےساتھ
سوال تو بنتا ہے نا—؟؟
اِدھر اُدھر کی بات نہ کر یہ بتا قافلہ کیوں لُٹا—؟؟
مجھے راہزنوں سے گلا نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے—؟؟
یہ خالد خراسانی مہمند گروپ کہاں سے آیا—؟؟
یہ خود کہاں رہتا ہے—-؟؟
پاکستان میں—؟؟
تو پکڑا کیوں نہیں—؟؟
اور باہر تو کہاں—؟؟
غیر ملکی پاکستان میں کیسے اور کب گھسے—؟؟
کیا ویزا لےکر آئے یا بغیر ویزے کے—؟؟
اگر بغیر ویزے کے توانکو
روکنا کس ادارے کا کام ہے—؟؟
اور پھر یہ لوگ بارڈر سے پشاور تک کیسے آگئے—؟؟
بیچ میں کوئی چیک پوسٹ نہیں ہے—؟؟؟
کون انکو سپورٹ کر رہا ہے—؟؟؟
تین دن چھوڑ کر ۔۔۔۔
تین سال سوگ مناتے رھو ۔۔۔۔
جن کے لخت جگر چلے گئے ہیں ۔۔۔ اب
ان کو اور قوم کو تمہارے ان سرکاری سوگ منانے سے کوئی لینا دینا نہیں ھے ۔۔۔
سوگ نہ مناو ۔۔۔۔
اب دماغ لڑاو ھوش کے ناخن لو ۔۔۔
غیروں کی چاکریاں چھوڑ کر اپنی قوم کا سوچو ۔۔۔۔۔
اور ھمیں اپنی جنگ کہہ کر بے وقوف بنانے والو ۔۔۔۔!!
یہ جنگ کبھی ھماری نہیں تھی
تم نے اس کو ڈالروں کے عیوض ھمارے بچوں کا خون بیچ کر اپنی جنگ بنایا ھے
تمام بھائیوں سے درخواست هے.
ان حکمرانوں سے عملی کام کرواؤ ..
جو کچھ بهی پشاور میں ہوا
ان حکمرانوں نے دو دن میں بھول جانا هے.
اور پھر عوام سوچنے پر مجبور ھے اب کہ یہ طالبان انسان ہیں۔۔۔؟؟
کہ۔۔۔۔۔۔۔ سپر نیچرل پاور ھولڈرز جنات۔۔۔؟؟
یا کوئ چڑیا۔۔۔۔۔۔۔ جن کے لیے کسی سرحد کسی چیکنگ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔!!
کہیں اس میں ھمارے ھمارے اپنوں کا ھاتھ تو نہیں۔۔۔؟؟